ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / پربھنی داعش معاملہ میں ملزم شاہد خان عدالتی تحویل میں منتقل؛ دیگرملزمین کو ۳۱؍ اگست تک پولس تحویل میں بھیجا گیا

پربھنی داعش معاملہ میں ملزم شاہد خان عدالتی تحویل میں منتقل؛ دیگرملزمین کو ۳۱؍ اگست تک پولس تحویل میں بھیجا گیا

Tue, 23 Aug 2016 01:39:33    S.O. News Service

ممبئی۲۲؍ اگست (ایس او نیوز؍موصولہ) مراٹھواڑہ کے پربھنی شہر سے داعش کے ہم خیال ہونے اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات کے تحت گرفتارمسلم نوجوان محمد شاہد خان قدیر خان، اقبال احمد کبیر احمد اور رئیس الدین صدیقی کو آج اورنگ آباد کی خصوصی عدالت میں سخت حفاظتی بندوبست میں پیش کیا گیا جس کے دوران ملزم محمد شاہد خا ن قدیر خان کو پولس تحویل سے عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا جبکہ اقبال احمد اور رئیس احمد کو ۳۱؍ اگست تک مزید پولس تحویل میں دیئے جانے کے احکامات عدالت نے جاری کیئے ۔

ملزمین کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) کے دفتر سے موصول اطلاعات کے مطابق آج اورنگ آباد کی نچلی عدالت کے جج اے وائی حسین کے روبرو ملزمیں کو پیش کیا گیا جس کے دوران سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ملزمین سے تفتیش جاری ہے نیز تحقیقاتی دستہ ملزمین کے قبضوں سے ضبط ہونے والے الیکٹرانک و ڈیجیٹل مواد کا تجزیہ کرنا چاہتا جس کے لیئے انہیں ان کی مزید پولس تحویل درکار ہے ۔

حالانکہ دفاعی وکیل خضر پٹیل نے عدالت کو بتایا کہ ملزمین کی مزید پولس تحویل درکار نہیں ہے کیونکہ تحقیقاتی دستہ پہلے سے ہی یہ دعوی کررہا ہے کہ اس نے ملزمین کے قبضہ قابل اعتراض مواد ضبط کرلیا ہے نیز پولس تحویل حاصل کرنے کی جو وجوہات گذشتہ تاریخ پر بتائی گئی تھی آج وہی پھر دوہرائی جارہی لہذا بجائے ملزمین کو پولس تحویل میں بھیجنے کے عدالتی تحویل میں بھیجا جائے ۔
فریقین کے دلائل کی سماعت کے بعد خصوصی عدالت کے جج نے ملزمین کو۳۱؍ اگست تک پولس تحویل میں دیئے جانے کے احکامات جاری کیئے ۔

اس درمیان ملزم شاہد خان قدیر خان کو عدالت پولس تحویل سے عدالتی تحویل میں بھیج دیا ، اس سے قبل عدالت نے اس معاملے کے کلیدی ملزم ناصر یافعی کو عدالتی تحویل میں بھیجا تھا ، دفاعی وکلاء کو امید ہیکہ بقیہ دو ملزمین کومعاملے کی اگلی سماعت یعنی کے ۳۱؍ اگست کو عدالتی تحویل میں بھیج دیا جائے گا کیونکہ قانون کے مطابق تحقیقاتی دستوں کو حاصل اختیاری ۳۰؍ دنوں کی پولس تحویل مکمل ہوجائے گی۔
ملزمین کی پیروی کے لیئے عدالت میں ایڈوکیٹ خضر پٹیل کے ہمراہ ایڈوکیٹ سہیل صدیقی،، ایڈوکیٹ کامران صدیقی، ایڈوکیٹ انتسار صدیقی، ایڈوکیٹ سچن مہاترے ، و دیگر موجود تھے ۔

واضح رہے کہ مہاراشٹر اے ٹی ایس نے ملزمین پر تعزیرات ہند کی دفعات 120(B) اور 13,16,18,18(B), 20,38,39 یو اے پی اے قانون کی دفعات کے تحت مقدمہ قائم کیا ہے اور ان پر یہ الزام عائد کیا ہیکہ وہ آئی ایس آئی ایس کے رکن ہے اور ہندوستان میں غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث ہیں نیز انہوں داعش کے لیڈر ابوبکر البغدادی کو اپنا خلیفہ تسلیم کیا ہے اور اس تعلق سے اردو میں تحریر حلف نامہ بھی ضبط کرنے کا پولس نے دعوی کیا ہے۔ 

آج کی مقدمہ کی کارروائی کے اختتام کے بعد ممبئی میں جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے کہا کہ وہ دفاعی وکیل خضر پٹیل کے مسلسل رابطہ میں ہیں اوران مسلم نوجوانوں کے مقدمہ پر ان کی گہری نظر ہے نیز ملزمین کی پولس تحویل سے عدالتی تحویل میں مکمل منتقلی کے بعد اگلاء لائحہ عمل سینئر وکلاء کے صلاح و مشورہ سے طئے کیا جائے گا ۔


Share: